TALIBAN OF AFGHANISTAN
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
#فاتح کون؟ طالبان یا امریکہ#
✒️ محمد عثمان ابن سعید کوجر (بمبوی)✒️
(متعلم عربی دوم جامعہ ڈابھیل)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولا تخافوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين• یہ اس ذاتِ پاک کا وعدہ ہے جس نے رزق کا وعدہ کیا تو بند پتھر کے اندر بھی کیڑے کو روزی پہنچائی، حفاظت کا عہد لیا تو سمندر کا سینہ چاک کرکے راستے نکالے اور مدد و نصرت کے پیمان باندھے تو وقت کی سپرپاور حکومتوں کے بالمقابل بھی اپنے ان بندوں کو فاتح کر دکھایا جو دنیوی اسباب و نقوش کے اعتبار سے نہتے اور کمزور تھے۔ کتب تاریخ کی ایک پارینہ داستاں ہے کہ وقت کے فرعونوں کے سامنے جب عصائے موسوی نے اپنا کرشمہ دکھایا تو شان و شوکت اور رعب و سطوت والی حکومتیں قعرِ مذلت میں اوندھے منہ جا گریں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے فدائیانِ پاک نفوس کو درجاتِ عالیہ و عروجاتِ متعالیہ سے سرفراز فرمایا۔
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
از آدم تا ایں دم ہر صدی، ہر زمانے اور ہر عہد میں تاریخ اپنا یہ افسانہ دہراتی آئی ہے، چنانچہ اس زمانے میں 'افغان طالبان' کی مثال ہماری نظروں کے سامنے ہے کہ حکومتِ شرعیہ و اسلامی نظام کا جو منور آفتاب 1923ء میں ترکستان کے مغربی پہاڑوں میں غروب ہوا تھا وہ تقریباً اٹھانوے سال بعد مشرق سے دوبارہ طلوع ہوکر افغانستان کے آسمان کا جھومر اور طالبان کے سر کا تاج بنا چاہتا ہے، گویا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين• کی تفسیرِ دلپزیر واضح اور عیاں طور پر نگاہوں کے سامنے آگئی۔
حالانکہ آج سے بیس بائیس سال قبل امریکہ جیسی سپرپاور حکومت نے جب بھوکے ننگے اور فاقہ کش افغانوں پر صورِ اسرافیل پھونکنے کا دعویٰ کیا تھا اور فقط اکیس دنوں میں سرزمینِ افغانستان کو چٹیل میدان میں تبدیل کر دینے کا دم بھرا تھا تب کون سوچ بھی سکتا تھا کہ یہی نہتے کمزور لوگ ایک دن عزت و مرتبت کے اعلی مقام پر فائز ہوں گے، فتح ان کا مقدر ہوگی اور وقت کی فرعونی حکومت کو ذلیل و رسوا کرکے نکال باہر پھینکیں گے۔
باوجودیکہ اسلام دشمن عناصر کے پاس فتح و کامرانی کے تمامتر آثار و نقوش موجود تھے، لشکر و عسکر کی کثیر تعداد، جدید اسلحوں اور نت نئے ہتھیاروں کی بھرمار، جدید ٹکنالوجیاں، کذاب و دجال میڈیا کی حمایت اور خود افغانوں میں ان کے غلامانِ بے دام لیکن تقدیر کے بازار میں تدبیر کا سکہ کب چلا ہے! یہاں تو کامیابی انہیں کی قدم بوسی کرتی ہے جو کامل مومن ہیں اور حصولِ رضائے الٰہی کے لیے جانوں کی پرواہ کئے بغیر آگ و خون میں کھیل جاتے ہیں۔
خیر! تقریباً بیس سالوں کی اس جہدِ مسلسل و سعیِ پیہم کا نتیجہ با ذوق قارئین کی دلچسپی کے لیے مرحوم اقبال کی زبانی پیشِ خدمت ہے:
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خونِ شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبار رہ گزر ہے کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیرگر نکلے
ہمارا نرم رَو قاصد پیامِ زندگی لایا
خبر دیتی تھیں بجلیاں جن کو وہ بے خبر نکلے
زمیں سے نوریانِ آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پائندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایہِ تعمیرِ ملت ہے
یہی وقت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
$$$
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں