اجلاسِ صد سالہ: مختصر رپورٹ
🖊️ محمد عثمان سعید بمبوی (متعلم عربی ششم جامعہ ڈابھیل) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”جامعہ اسلامیہ دار العلوم دیوبند“ اپنی ڈیڑھ صدی سے زائد کی علمی، عملی، اصلاحی، روحانی اور سیاسی خدمات کی وجہ سے محتاجِ تعارف نہیں۔ خلوص و للہیت، ورع و تقوی، راسخ علم، صحیح عقائد، صالح اعمال اور خود شناسی و خدا ترسی جیسی اعلی صفات و اوصاف سے متصف افراد ہمیشہ اس کی تاریخ کو روشن اور کارناموں کو نمایاں کرتے رہے ہیں۔ خصوصاً دورِ اول کے اکابرین علمائے دیوبند کے علم و عمل اور تقوی و طہارت کا دوست و دشمن ہر ایک معترف ہے۔ اِنہیں جبال العلم و العمل انفاسِ قدسیہ میں ایک نمایاں نام امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مالٹا کی قید میں جانے کے موقع سے اپنا نائب اور دارالعلوم کا شیخ الحدیث مقرر کیا تھا، آپ نے ایک عرصے تک دارالعلوم کی مسندِ حدیث کو زینت بخشی اور اپنے علوم کے دریا سے پوری دنیا کو سیراب کیا؛ مگر ایک عرصے بعد آپ نے کچھ انتظامی امور میں مخلصانہ و مجتہدانہ اختلاف کی بنا ...