# ہم مسلمان اپریل فول کیوں منائیں؟ APRIL FOOL #

 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

از قلم:- محمد عثمان ابنِ سعید بمبوی

متعلم:- عربی اول جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل سملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے حیاتِ انسانی کے تمام تر شعبہ جات میں بشری تقاضوں کے مطابق احکام و رخصت دی ہے۔ طبعِ انسانی  غم و مسرت، عیش و پریشانی، الم و شادمانی اور فکر و فارغ البالی جیسی متضاد عناصر کا سنگم ہے۔ انسان سدا مسکراتا ہوا نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ہمیشہ غم و الم کے سمندر میں غرقاب رہ سکتا ہے۔ اسی لئے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو تفریح و مذاق کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ خود پیغمبرِ اسلام (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) نے متعدد مرتبہ اپنے جاں نثار صحابہ سے مزاح فرمایا ہے۔

لیکن اس رخصت کے ساتھ اسلام نے حدبندی بھی کی ہے تاکہ لوگ اس سے دلیل پکڑ کر حدتجاوزی نہ کر بیٹھیں، چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ مزاح ومذاق پانچ شرطوں کے ساتھ جائز؛ بلکہ حسنِ اخلاق میں داخل ہے اور ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوجائے تو پھر مذاق ممنوع اور ناجائز ہے۔

(۱) مذاق تھوڑا یعنی بقدرِ ضرورت ہو

(۲) اس کا عادی نہ بن جائے

(۳)حق اور سچی بات کہے

(۴)اس سے وقار اور ہیبت کے ختم ہونے کا اندیشہ نہ ہو

(۵)مذاق کسی کی اذیّت کا باعث نہ ہو (احیاء العلوم اردو ۳/۳۲۴-٣۳۲)

لیکن اپریل فول کی رسمِ بد عموماً ایسے قبیح اور ایذارسا مذاق پر مشتمل ہوتی ہے جس سے اسلام کے مندرجۂ ذیل متعدد احکام کی خلاف ورزی لازم آتی ہے:

 

[(١ و ٢) جھوٹ اور دھوکا]:- حدیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مفہوم و خلاصہ ہے کہ مسلمان شراب نوشی و زناکاری کا مرتکب تو ہوسکتا ہے لیکن کذب و فریب مسلمان کی شان نہیں۔ نیز دربارِ رسالت( صلی اللہ علیہ وسلم) سے یہ فرمان بھی جاری ہوا ہے کہ {مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا : جو ہم (مسلمانوں) کو دھوکا دے اس کا ہم (مسلمانوں) سے کوئی تعلق نہیں۔(مسلم شریف ۱/۷۰)}



نیز ارشاد باری عز اسمہ ہے  {فنجعل لعنت الله علی الکاذبین- پس لعنت ہے اللہ کی ان لوگوں پر جو جھوٹے ہیں (سوره آل عمران: ٦١)} آخر الذکر کوئی حدیث نہیں کہ اس کی صحت و ضعف میں کوئی کلام کرے اور نہ ہی کسی فقیہ یا محدث کا اجتہاد ہے کہ اس میں رد و قدح کی گنجائش نکل سکے بلکہ یہ اس کتابِ لا ریب فیہ کا جز ہے جو کذب و جھوٹ تو کجا، ہر طرح کی افراط و تفریط سے بھی مبرا و منزہ ہے۔


{(٣) یہود و نصاری کی مشابہت}:- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات جیسے واجبی شعبے میں بھی یہودیوں کی مشابہت سے احتراز کرنے کی خاطر دسویں محرم کے روزے کے ساتھ نویں یا گیارہویں محرم کا روزہ ملا کر رکھنے کا حکم فرمایا، چہ جائیکہ ہم اِس جوازی امر یعنی تفریح و مزاح میں ان اسلام دشمنوں کی مشابہت اختیار کریں۔ نیز لسانِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپریل فول منانے والوں کے لئے بھی یہ وعید بیان ہوئی ہے کہ { من تشبه بقوم فھو منھم- جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔(مشکوٰة شریف ۲/۳۷۵)}


{(٤) ایذا رسانی}:- اپنی ذات سے کسی کو تکلیف پہنچانے والا کیونکر کامل مومن ہو سکتا ہے جب کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ { من سلم المسلمون من السانه و یده- کامل مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان مامون و مصئون رہیں۔ (بخاری شریف۱/۶، مسلم شریف۱)}


مندرجہ بالا تفصیل کے علاوہ اس رسمِ قبیح کی تاریخ بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والی اور ہوش اڑا دینے والی ہے۔ یوں تو اِس خبیث رسم کے متعلق مختلف تاریخی  روایات منقول ہیں منجملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو اسی دن یعنی بتاریخ یکم اپریل یہودیوں نے اپنی عدالتِ عالیہ میں پیش کیا تھا جہاں آپ کی شانِ عالی میں گستاخی کی گئی تھی اور آپ کا استہزاء اور مذاق اڑایا گیا تھا جس کی یاد میں پہلے یہودی اس دن کو خوشی منانے لگے، پھر رفتہ رفتہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نام نہاد و کم سواد پیروکاروں نے اسے اپنایا اور اب یہ ہمارے اسلامی معاشرے میں اپنی تمام تر برائیوں سمیت داخل ہونے لگا ہے۔ (اللہم احفظنا منہ)


ہر شخص کو اللّٰہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے، لہذا ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ کیا ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی گستاخی کے دن ان ملعون گستاخوں کی طرح خوشی منائیں گے یا کم علمی و نادانی میں ان کی مشابہت اختیار کرنے والے مسلمانوں کے حال پر خون کے آنسو بہائیں گے؟ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو اس قباحت سے دور رکھنا ہوگا، اگر ہر مسلمان اس سے اجتناب کا عزم بالجزم کرلے تو معاشرہ کئی برائیوں سے مبرا و منزہ ہو جائے گا کہ 


خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے

اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا


$$$

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

من الظلماتِ الی النور (عربی اول کا یادگار سال)

اجلاسِ صد سالہ: مختصر رپورٹ