شام ڈھلے ہر پنچھی کو گھر جانا پڑتا ہے(جامعہ ڈابھیل واپسی)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
(گھر سے مدرسہ واپسی)
محمد عثمان ابن سعید بمبوی
متعلم عربی دوم جامعہ ڈابھیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھک چھک گاڑی۔۔ بچپن کا نام۔۔ جسے اب ٹرین کہتے ہیں۔ اس سرعت و تیزرفتاری کے جوہر دکھا رہی ہے کہ کوئی اور کیوں ہوا ہوگا جو اسے روک پایا ہو۔ بس آگا پیچھا دیکھے بغیر اپنی مستی میں مگن جانبِ منزل رواں دواں ہے۔
لیکن اس سے بھی کئی تیزتر گزرے ہوئے دن کے وہ خیالات پردۂ تصور پر گزر رہے ہیں جب گھر میں سکون و اطمینان کا حال کچھ ایسا تھا گویا ہفت اقلیم کی بادشاہت ہاتھ لگ گئی ہو۔ نگاہوں میں والدین کی ہزاروں دکھڈے چھپائی ہوئی حشاش بشاش صورت اور ارد گرد خوشی میں پھولے نہ سمانے والے دیگر اہلِ خانہ کا جمگٹھا قہقہوں اور مضحکوں میں مشغول۔ ہر طرف سے یہ کھا۔ وہ کھا۔ کی آوازیں۔ کوئی مدرسے کے احوال پوچھتا ہے۔ تو کوئی سفر کی روداد جاننے کا شائق ہے۔ کوئی کہتا ہے کافی کمزور ہوگیا۔ تو کوئی اس مجاہدے پر بشارتیں سنا کر تسلیِ دل کا سامان کرنے میں کوشاں ہے۔
اتنی خاطر تواضع پہلے کیوں ہوئی تھی۔ جی کہنے لگا کہ یہی رہ جانا چاہئے۔ ایک ہی زنگی ہے کھا پی کر مست رہنا اچھا سودا ہے۔ لیکن معاً ایک صدائے ہوش ربا دل پر دستک دیتی ہے۔ کہ یہاں محض زنگی ہے۔ اسبابِ عیش و آرام ہیں۔ مگر جہاں سے تو آیا ہے اور جہاں تجھے لوٹنا ہے وہاں بندگی ہے۔ دائمی عیش و آرام کے سامان کا انتظام ہے۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
بس ہاتف کی آواز سن گھر والوں کو دعا سلام کر کے نکلا۔ اب ٹرین میں بیٹھے اس گزرے ہوئے دن کی یادیں سپردِ قرطاس ہو رہی ہیں۔ اور یہ مصرع نوکِ قلم سے بے اختیار لیکن بر محل نکل رہا ہے
**شام ڈھلے ہر پنچھی کو گھر جانا پڑتا ہے**
$$$
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں