انتقالِ پرملال مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
😭ادبی دنیا کا اک روشن چراغ گل ہوگیا😭
از قلم:- محمد عثمان ابنِ سعید بمبوی
متعلم عربی اول جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی گھنٹے قبل محلے کے ایک سن رسیدہ بزرگ کی نمازِ جنازہ ادا کرکے انہیں رخصت کیا تھا، ابھی وہ منظر نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پایا تھا کہ یہ خبرِ صاعقہ اثر موصول ہوئی: ہندوستان کی مایۂ ناز و شہرۂ آفاق شخصیت، ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے استادِ ادبِ عربی، دسیوں اردو و عربی کتابوں کے مصنف، رسالہ الداعی کے ایڈیٹر، کہنہ مشق ادیب و صاحب طرز انشا پرداز اور دنیا بھر کے تشنگانِ علوم کو سیراب کرنے والی بے لوث ہستی حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب کوچ کر گئے۔ گویا علمی دنیا کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا اور چمنستانِ ادب کی بلبلِ خوش نوا ابد الآباد تک خاموش ہوگئی۔
کاسۂ دل چور چور ہوگیا، آنکھوں کے کٹورے اشکوں سے لبریز ہوگئے، ذہن کسی انجان فکروں میں الجھ کر رہ گیا، زبان گنگ ہو گئی، لرزتے ہاتھ بے ساختہ اٹھے اور کانپتے لبوں نے مغفرت و بلندئ مراتب کی دعائیں کیں۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
ویسے تو بیشمار لوگ اس عالمِ آب و گل میں جنم لیتے ہیں لیکن ان میں سے بعض گزر جاتے ہیں جبکہ بعض صحیح معنوں میں زندگی گزار کر جاتے ہیں۔ جو گزر جاتے ہیں انہیں دنیا بھی گزار کر فراموش کردیتی ہے، تاریخ کے دامن میں انہیں جگہ و پناہ نہیں ملتی لیکن جو خالق کی خوشنودی اور مخلوق کی علمی، دینی و اخروی خدمات میں کوشاں رہتے ہیں ان کے عازمِ عالَمِ بالا ہونے پر عالمِ زیریں تہ و بالا ہوجاتا ہے، بیشمار قلم ان کی یاد میں سر جھکا کر رحمت و مغفرت کی دعائیں لکھتے ہیں، مقررین کی تقاریر کا موضوع اور زاہدین و عابدین کی دعاؤں کا وہ حصہ بن جاتے ہیں، ان کا تذکرہ ادباء و شعراء کی فکروں کا محور اور ان کا چرچا نجی محفلوں کی زینت قرار پاتا ہے اور ایک زمانے تک منبر و محراب ان کی یاد میں نالہ زن و فریاد کناں رہتے ہیں۔
خبرِ وفات کے ساتھ ایک تسلی بخش و دل افزا خبر بھی تھی کہ حضرت انتقال سے کچھ وقت قبل ہی آسمان کی طرف اشارہ کرنے لگے تھے جو ایک مومن کے لیے یک گونہ تسلی کا باعث ہے۔ نیز کون مومن نہیں چاہے گا کہ جب بھی عزرائیل علیہ السلام کی ملاقات مقدر ہو وہ مہینہ رمضان کا ہو۔
لیکن پے در پے اکابرین کی وفات سے دل محزوں ہے، کاش! رفتگانِ ملکِ عدم کے یہ قافلہ سالار کچھ دیر کے لئےٹھر جائیں کہ یتیم ملت کا سفینہ حالات کے تھپیڑوں سے ہچکولے کھا رہا ہے، ملت بیضا کے بے لوث ملاحو! تمہیں اس بے آسرا ملتِ مرحوم کا واسطہ! کچھ دیر کے لیے ٹھر جاؤ!
موت آواز دیتی ہے شاید انہیں
جانے والے ہیں دنیا سے اہلِ وفا
راز! ایسے میں کوئی غزل چھیڑ دو
قافلے زندگی کے ٹھر جائیں گے
گزشتہ ایک سال میں مدارس و مکاتب کے علماء اور قوم و ملت کے اکابر کے انتقال کی خبریں بکثرت موصول ہوئیں اور اس طرح سے علماء و صلحاء کا تیزی سے رحلت فرما جانا ہمارے لئے بہت ہی مایوس کن ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ سے لو لگا کر مانگنا ہو گا کہ
اے میرے اللہ! میرے پیارے اللہ! گلستانِ حیات سے بَہار رخصت ہوئی اور خزاں نے اپنا سکہ جمالیا ہے، ہر طرف جنازے اٹھ رہے ہیں، ایک مردہ دفن کر کے لوٹو تو دوسرا تیار ہے، کئی قبرستانوں میں جگہ نہیں اور کئی لوگ بسترِ مرگ پر موت و حیات کی جنگ میں جان بہ لب ہیں۔ تیرے کئی برگزیدہ بندے بھی اس قاتل وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، رب رحیم اپنے بندوں پر رحم و کرم فرما! جو اکابرین تیرے پاس آچکے ان کو غریقِ رحمت فرما کر ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرما اور جو ابھی بقیدِ حیات ہیں ان کا سایہ ہمارے سروں پر عافیت کے ساتھ تا دیر قائم رکھ اور ہمیں "مردہ پرستی" سے نکال کر "زندہ شناسی" کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
فقط
٣، مئی ٢٠٢١
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں