{ امید کی کرن } A RAY OF HOPE FOR STUDENTS

 


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

از قلم:- محمد عثمان ابنِ سعید بمبوی

متعلم فارسی دوم جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شوال گذرے تقریباً چار پانچ مہینے ہوگئے، لیکن اب تک گھر کی روٹیاں توڑ رہے ہیں ۔ اس نعمتِ غیر مترقبہ پر فرحاں و شاداں اور ربِّ شکور کا مشکور ہوں؛ لیکن پڑھائی باوجود چاہنے کے کماحقہ نہ کر پانے کی وجہ سے حزین و غمگین بھی رہتا ہوں۔

" اب کروں تو کیا کروں؟ یہاں کتاب کھولی نہیں کہ اُدھر والد صاحب نے بلالیا،اِدھر ماں نے آواز دے دی، کہیں دادا نے یاد کیا اور کوئی نہیں تو پھر کم از کم با وفا ظالم دوستوں کا فون تو آ ہی جاتا ہے۔ گھر پہ مدرسے والا ماحول نہیں ملتا اور نہ ہی مدرسے جیسی یکسوئی و فراغت حاصل ہوتی ہے"۔ 

جب اساتذہ اور والدین کی مسلسل نصیحتوں اور تاکیدوں کے بعد ہمارا ضمیر  جھنجھوڑکر ہمیں اپنی ذمےداری یاد دلاتا ہے اور ہماری صحیح رہنمائی کرنا چاہتا ہے تب اس کے جواب میں مندرجۂ بالا جملے بطور معقول عذر کے ہم پیش کردیتے ہیں۔

کچھ دن قبل تک یہی عذرِلنگ میرے ذہن میں گھر کیا ہوا تھا؛ لیکن کل ایک شریکِ درس سے فون پر گفتگو ہوئی تو اس کا نظام الأوقات، اور تعلیمی سلسلے کی سرعت اور اہتمام  سن کر کچھ دیر کے لئے ایسا گم سم ہوگیا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو، اس طالبِ علم نے ماحول کا بہانہ بنانے والے مجھ جیسوں کے گال پر کَس کے ایسا طمانچہ رسید کیا کہ میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔

اس چار ماہ کی مدت میں نہ صرف کتاب الصرف مکمل، مفتاح العربیہ، تمرین الصرف، آسان نحو، لغاتِ جدیدہ اور کتاب النحو بیش از نصف اور دروس اللغۃ العربیہ کے کچھ اسباق پڑھ لئے؛ بلکہ تین چار پارے یومیہ تلاوت اور خارجی مطالعے  کا معمول بھی برابر جاری و ساری ہے، آن لائن عربی بول چال کی مشق اس کے سوا ہے ۔چار ماہ کی مدت تعجب خیز نہیں؛ بلکہ گھر کے ماحول میں یہ سب کر گذرنا حیران کن اور محیر العقول ہے۔ گویا


ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا اک دِیا

موسم سے کہہ رہا ہے آندھی چلا کے دیکھ

(نسیم نکہت)


پھر سوچتا ہوں کہ کیا اس کے گھر میں والدہ نہیں جو بازار کے سودا سلف کا کام اس کے ذمے ڈالیں؟ اس کا کوئی دوست نہیں جو ہر دو منٹ پر فون کرکے" بس کیا یار"کہہ کر کتاب بند کروادے؟ وہ سارے نام نہاد تقاضے جو ہمیں پیش آتے ہیں اسے درپیش نہیں؟ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان سب سے اسے بھی سابقہ پڑتا ہے اور ایک عدد موبائل وہاٹس ایپ سمیت استعمال کرتا ہے، دل پر چوٹ سی لگی کہ اگر ان سب جھمیلوں کے ہوتے ہوئے وہ اتنا سب کچھ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ ہماری کتاب الصرف ختم کہاں ؛ ابھی شروع بھی کیوں نہیں ہوپائی، 

  تھوڑا سا غور کرنے پر معلوم ہوگیا کہ اصل پختہ ارادے کی کمی ہے، عزمِ مصمم کا فقدان ہے۔

کہتے ہیں کہ:

ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو

  تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے


تو یہ گھر کا دلفریب ماحول اور محفلِ یاراں کی خوشگوار رونق کس کھیت کی مولی ہے! انسان کے پاس پختہ ارادہ ہی تو وہ جوہر ہے جس کے بل بوتے پر وہ پہاڑوں سے ٹکراجاتا ہے، سمندروں کا سینہ چیر دیتا اور آسمانوں پر کمندیں ڈالنے کی جرأت کرتا ہے، آج محسوس ہوا کہ "چاہنے "اور "ارادہ کرنے" میں بہت فرق ہے، شیخ چلّی کا خواب اَور ہے اور فرہاد کے پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر بہادینے کا عزم اَور، آرزوؤں سے منزلوں کا سراغ نہیں ملتا؛ ناکامی کا سُراب ہاتھ لگتا ہے،صرف سوچتے رہ جانے والے ہمیشہ قافلے سے بچھڑجاتے ہیں اور ٹھان کر گھوڑے کو ایڑ لگانے والے جان لیوا ظالم صحرا کو بھی عبور کرجاتے ہیں،اے میرے بہانے باز نفس! صرف "خواہش" سے تو تَلا ہوا پاپڑ بھی نہیں ٹوٹتا، ہمت کرکے  اپنے بس کے چراغ جلانے پڑیں گے ، موانعات سے لڑنا ہوگا، چونچلوں اور بہانوں کی چوڑیاں اتارنی ہوگی، مَرَد بننا پڑے گا. 

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا


کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے

اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا


‏ تو آ! اے میرے زندہ دل ضمیر! 

 ساتھ مل کر یہ عزم بالجزم کریں کہ انشاء اللہ تعالی آئندہ پَل پَل اور لمحے لمحے کی قدر کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ ایامِ تعطیل نہیں؛ ایام تعلیم ہیں. 


مکتبِ عشق کے انداز نرالے دیکھے

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا 


کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا

مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم

(ساحر لدھیانوی)

۔۔۔۔ اللہ حامی و ناصر ہو۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

# ہم مسلمان اپریل فول کیوں منائیں؟ APRIL FOOL #

من الظلماتِ الی النور (عربی اول کا یادگار سال)

اجلاسِ صد سالہ: مختصر رپورٹ