لاکڈاون میں جامعہ کی جدائی JAMIA DABHEL
☆☆☆جامعہ کی جدائی☆☆☆
◇از محمد عثمان ابن سعید بمبوی◇
ملک بھر میں چلتے لاک ڈاون کے سبب ہم بجائے مدرسے کے گھر ہی پر ایام گزار رہے ہیں ، الحمد للہ گھر کے لذیذ کھانوں کے سامنے مطبخ کی ماہانہ بریانی بھی یاد نہیں آتی، گرم و نرم بستر پر لیٹتے ہی جامعہ کے دارالاقامہ کے حجروں کی جدائی پر دل دربارِ ایزدی میں نذرانہ شکر پیش کرنے لگتا ہے۔
مگر روح فریاد کناں ہے کہ آہ!!! کہاں گئے وہ ایام جنہیں ہم قال اللہ و قال الرسول کی گونج کے درمیان رہ کر گزارتے تھے، اففف!!! کہاں گئیں وہ راتیں جو کتب بینی میں بسر ہوتی تھیں۔ وہ فجر بعد کی اجتماعی یس خوانی کا مزا، درسگاہوں میں حصولِ علم کا لطف، بعدِ عصر ڈابھیل کی لاریوں کی رونق اور شبِ جمعہ انجمن کی چہل پہل یاد آ آ جاتی ہے۔ آنکھیں جامعہ کی شاندار عمارتوں کے دیدار کو ترس رہی ہیں، کان اساتذہ کی آواز کے متلاشی ہیں، کاسہ دل انوارِ علم و معرفت سے خالی خالی سا محسوس ہو رہا ہے اور بندہ عاجز بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہے کہ یا اللہ!!! جلد از جلد ملک کے حالات کو سازگار بنا دے اور ہمیں جامعہ کی پر نور فضا میں واپس پہنچا دے۔آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں