بابری مسجد. BABRI MASJID




زخمی اور لاوارث ملت اسلامیہ ہندیہ

از:ابو سعد چارولیہ

5/اگست 2020
________________________
کون دل ہے جو زخمی نہیں اور کونسی آنکھیں ہیں جو آنسو نہیں بہارہی ہیں، دل پر غم کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ہر طبیعت مضطرب و بے چین ہے، اور سچ پوچھو تو ہر جگہ ناامیدی و مایوسی نظر آرہی ہے کہ آج ہم نے اپنے ہاتھوں بابری مسجد کو کھودیا، یہ مسجد نہیں تھی؛ ہماری عظمت کا نشان تھی، گرا ہوا ڈھانچہ بھی ہمارے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے کم نہ تھا، آج ہر طرف کفر و شرک کا بول بالا دکھائی پڑتا ہے، اس نازک موقع سے یہ عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ہندوستان میں ایسا موقع پہلی بار نہیں آیا، کفر و شرک کے ناپاک پجاریوں کی طرف سے ملت اسلامیہ ہندیہ پر بے شمار حملے ہوئے ہیں اور ہر حملہ ایسا کہ ملت کی کشتی ڈوبتی اور اس کی ہستی مٹتی نظر آتی ہے؛ مگر یہ ملت اللہ کی عنایت و توفیق اور اس کے عزیمت پسند مجاہد بندوں کی محنت سے طوفان گذرتے ہی پھر سنبھل جاتی ہے،اقبال نے اسی لیے کہا تھا کہ

کیا بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

خود تقسیم کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات اور انیس سو بانوے میں بابری مسجد کی شہادت پر ہمارے بہت سے اکابر دل گرفتہ ہوئے، حالات کچھ اتنے سنگین تھے کہ ملک میں اسلام کا چراغ گل ہوتا ہوا نظر آیا؛ مگر عین وقت پر کوئی ابوالکلام آزاد دہلی کی جامع مسجد میں کھڑا ہوکر پکارا کہ :"مسلمانو! یاد رکھو کہ اگر تم خود بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں یہاں سے کوئی نہیں بھگا سکتا"،بابری مسجد کی شہادت کے بعد کوئی علی میاں ندوی کھڑا ہوتا ہے اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ زخمی امت کو حوصلہ دیتا ہے، مانا کہ آج ہمارے پاس آزاد و علی میاں نہیں ہیں؛ لیکن وہ اللہ تو زندہ و حیی قیوم ہے جو آزاد کو پیدا کرتا اور علی میاں میں روح پھونکتا ہے، مایوسی کفر کا شیوہ ہے اور امید مومن کا، مومن ہر حادثے کے بعد اس سے سبق سیکھ کر دوبارہ کھڑا ہوجاتا ہے، وہ ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا.
دوستو! آج ہم امید کے سہارے خوش فہمی کا چورن بیچنا نہیں چاہتے، حالات واقعی سنگین ہوئے جارہے ہیں؛ مگر یہ پہلی مرتبہ نہیں، ایسا بارہا ہوچکا ہے، کفر کو دھوکا لگا ہوا ہے کہ ملت مٹ جائے گی؛ جب کہ یہ ملت بڑی سخت جان واقع ہوئی ہے، اس لیے دوستو! مایوسی چھوڑدو اور ہمت سے کام لو، ماضی سے سبق سیکھو، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر" آمنا و صدقنا" کہہ کر ہم نے بڑی تاریخی و اجتماعی غلطی کی ہے، ہماری اس اطاعت نے آئین کی بالا دستی پر نہیں؛ ہماری بزدلی پر مہر لگائی ہے، ملک کے ایک بڑے طبقے کو یہ پیغام گیا کہ مسلمان مسجد سے دستبردار ہوگئے، اگر اس فیصلے کے بعد ہم سڑکوں پر نکلے ہوتے اور اپنی ناراضگی جتائی ہوتی تو آج کفر اس طرح دندناتے نہ پھرتا، اب بھی موقع ہاتھ سے نہیں گیا ہے، کفر و اسلام کی باہمی چپقلش صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی، چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی کی ستیزہ کاریوں کا سلسلہ کبھی بند نہ ہوگا، کفر کے قدم پھر کسی اور مسجد کی جانب بڑھیں گے، دیکھنا، تب عدالتوں میں نہ بھاگنا، کسی لیڈر کی آواز کا انتظار نہ کرنا، نام نہاد امن کے پجاری نہ بننا، غیرت مند قوم کی طرح سڑکوں پر اتر آنا، تم نے دیکھا تھا نا! کہ پچھلے دنوں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مٹھی بھر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے کس طرح طاغوت کو تگنی کا ناچ نچایا تھا، اگر پوری ملت اجتماعیت کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے باہر نکلے گی تو نفرت کے سوداگر بھی سمجھ جائیں گے کہ اب یہ زخمی ملت دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی ہے، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،  اندھیرے کے بعد صبح کا اجالا طلوع ہوگا؛ پر سورج کی آمد سے پہلے اپنے خون کی سرخی آسمانوں کے کناروں پر دکھانی ہوگی، عبدالسلام اظہر مالیگانوی کے ان اشعار کے ساتھ رخصت کی اجازت چاہتا ہوں

لُٹ کر بھی قاتلوں کو قصیدے  سناؤ گے ؟؟
نا دانو !  اپنے  آپ  کو  کتنا   گراؤ  گے ؟
کچھ فائدہ نہ دیگا تمہیں " جشنِ مصلحت"
یوں  ہی  ہمیشہ  اپنے  لہو  میں  نہاؤ  گے
یہ ناگ کے پجاری ، یہ تفریق کے امیٖن
ان سے سوائے زہر کے کچھ بھی نہ پاؤگے
عینک سجی ہے ان کے ہی منصف کی آنکھ پر 
انصاف لینے کس  کی عدالت  میں  جاؤ گے! 
گھر تک نہ اپنے آئیں گے اب آگ اور خون
یہ جھوٹے خواب آنکھوں میں کب تک سجاؤ گے! 
تب  ختم   ہوگا   کالے  عذابوں   کا  سلسلہ 
*جب  تم  مجاہدوں  کی  طرح  سر  اٹھاؤ گے*


چینلز نہ دیکھنا مایوسی بڑھے گی، قرآن پر نظر رکھنا ایمان بڑھے گا

الذین قال لھم الناس إن الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادهم ایمانا و قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

# ہم مسلمان اپریل فول کیوں منائیں؟ APRIL FOOL #

من الظلماتِ الی النور (عربی اول کا یادگار سال)

اجلاسِ صد سالہ: مختصر رپورٹ