مآثرِ شیخ الاسلام MOLANA HUSAIN AHMED MADNI




بسم اللہ الرحمن الرحیم○

☆☆☆اہمیت و تبصرہ بر 'مآثرِ شیخ الاسلام'☆☆☆

□□از محمد عثمان ابن سعید بمبوی□□


        "لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوة حسنة" یہ کسی محدث کا اجتھاد نہیں کہ اس میں کسی طرح سے رد و قدح کی گنجائش نکل آ سکے، نہ ہی حدیثِ نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہے کہ اس کی صحت و ضعف میں کوئی کلام کر سکے، بلکہ یہ اس قرآنِ کریم کی آیت کا ٹکڑا ہے جو کذب و بھتان تو دور بلکہ ہر طرح کی افراط و تفریط اور مبالغہ آرائی سے بھی پاک و صاف اور بالاتر ہے۔
        بارگاہِ ایزدی سے یہ اعلانِ عام ہو چکا کہ خوانِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ریزہ چینی کرنے والا خواہ وہ کسی مکان و زماں کا ہو ابدی کامیابی سے ہم کنار کیا جائے گا اور کتبِ تواریخ "أن الله لا یخلف المیعاد" کی شاہد ہے۔
جب ہمارے اکابرین علمائے دیوبند نے اپنی زندگیوں کو أسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالا تو اللہ تعالی نے دونوں جہاں کی کامیابیاں ان کی جھولیوں میں بھر دی۔
        جنگِ حریت میں علمائے دیوبند نے جو نمایاں کردار اور رول پیش کیا اس کے پیچھے یھی راز ہے کہ ان کے ایک ہاتھ میں قرآن تھا تو دوسرے ہاتھ میں سنت۔ نیز اسی وجہ سے کوئی مائکالال اسلام و اہلِ اسلام کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے  کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
         مگر آج سرزمینِ ہند ہم اہالیانِ اسلام پر تنگ کرنے کی سازشیں ہی نہیں بلکہ کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ ایسے پر خطر حالات میں ہمیں صحیح رہنمائی ان لوگوں کی سوانح سے بھی مل سکتی ہے کہ سیرتِ نبوی جن کی طبیعتِ ثانیہ بن چکی تھی اور جو عشقِ  رسول کے دعوے میں سچے تھے۔
        انہیں اکابرینِ دیوبند میں سے ایک سنت و شریعت کی پابند اور علومِ ظاہری و باطنی کی سنگم شخصیت حضرت شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمةالله علیہ کی سوانح عمری موسوم بہ 'مآثرِ شیخ الاسلام' بندے کی زیرِ مطالعہ ہے جو مکتبہ دار المولفین کی نشر کردہ اور مولانا نظام الدین اسیرادروی کی کاوش کا نتیجہ ہے۔
        حضرت مدنی رحمةالله علیہ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک پہلو اتنا روشن اور سبق آموز ہے کہ اگر آج کے علما بالخصوص اور مسلمان بالعموم ان کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے کی کوشش کریں تو انشاءاللہ ہر ہر قدم پر کامیابی ان کی قدم بوسی کرے گی، مایوسی دور ہوگی، عزم و ہمت سے مالامال ہوں گے اور زندگی کی شاہراہ پر مومنانہ وقار و قوت کے ساتھ رواں دواں ہوں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

# ہم مسلمان اپریل فول کیوں منائیں؟ APRIL FOOL #

من الظلماتِ الی النور (عربی اول کا یادگار سال)

اجلاسِ صد سالہ: مختصر رپورٹ