ایک مسجد شہید ہوئی یا قوم کی غیرت؟ BABRI MASJID
بسم اللہ الرحمن الرحیم○
《مسجدے شہید شد یا غیرتِ قوم؟》
از قلم:- محمد عثمان ابن سعید بمبوی
متعلم فارسی دوم جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل۔سملک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٥/ اگست ٢٠٢٠ء کا ہولناک دن تاریخِ ہند کے اُس باب میں تازہ اور سیاہ اضافہ ہے جو کبھی انگریزوں کے قلمِ توپ و تفنگ اور مجاہدینِ آزادی کے خونِ جگر کی روشنائی سے رقم ہوتا تھا، لیکن اس نئے اور تازہ حادثے کی نوعیت کچھ مختلف تھی۔ یہاں انگریزوں کی بندوقیں نہیں؛ برادروں کی کدال تھیں ، شیردل مجاہدوں کی گردنیں نہیں؛ ظہیرالدین بابر کی تعمیر کردہ مسجد تھی اور قصورِ غدر و بغاوت نہیں؛ خطائے اخوت تھی۔
دل تڑپ کر رہ گیا، آنکھیں برسنے لگیں ، سر چکراگیا، قدم لڑکھڑاگئے، ہاتھ کانپنے لگے، نظریں بابر کو تلاش کرنے لگیں کہ اے بابر! تو نے اللہ کی محبت، اسلام کی غیرت اور ایمان کی حمیت کے خاطر ایک مسجد تعمیر کروائی، لیکن ہم تیری ناخلف اولاد اس کی حفاظت نہ کر سکے؛ CAA اور NRC کے خلاف تو ہم نے احتجاج کیا؛ مگر اللہ کے گھر کی حفاظت کے لئے ہم نے آواز تک اٹھانا ضروری نہ سمجھا۔
اُس دن ظہیرالدین محمد بابر کی روح بھی دربارِ خداوندی میں سراپا آہ و بکا بنی ہوگی کہ ہائے ربّا! اس قوم کو کیا ہو گیا؟ یہود کے آگے راکھ ہے تو ہنود کے سامنے دھواں، کبھی متاعِ فانی کے پیچھے چشم بستہ رواں دواں ہے تو کبھی یہود و ہنود کی خوشنودی کے لیے حیراں و کوشاں۔ کل جو "کوہ" تھے آج "کاہ" ہیں، کل جنہیں دیکھ کر لوگ "واہ" کہتے تھے آج انہیں کی زبانوں پر "آہ" ہے۔
کہاں گئی ہمارے سیف اللہ (رضی اللہ عنه) کی دھار؟ کیا ہمیں یاد نہیں معاذ و معوذ (رضی اللہ عنہما) کا وار؟ کہیں زنگ آلود تو نہیں ہوگئے ہمارے حوصلوں اور ہمتوں کے تار؟ ہم ہی تو تھے جنہوں نے ہزار سال اس ملک میں فرمانروائی کی، ہم ہی تو تھے جنہوں نے ہند کو سنہری چڑیا بنایا، مسجدیں بنائیں، خانقاہیں سجائیں اور مدارس و مکاتب کی بنیادیں ڈالیں۔ تاج محل، لال قلعہ اور جامع مسجد کس کی یادگاریں ہیں؟ تحریکِ ترکِ موالات اور ریشمی رومال کا بانی کون تھا؟ کیا ہمارا صلہ یہی ہے کہ ہماری مسجد کفر کا مرکز بنے؟ ہمیں موب لینچنگ کا نشانہ بنایا جائے؟ مذہبی بنیاد پر قوانین بناکر ہمیں جلاوطن کرنے کی سازش کی جائے؟ اقبال کی زبانی جواب سنئے کہ
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی پر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
چھوڑ مایوسی اور اٹھ چل اے غیور قوم!!! زمانے کو تیرے بہادر و شجیع، غیور و غیرتمند اور بیباک و نڈر اسلاف کی یاد دلا دے۔
اب تو جاگ جا اے روشن ماضی کی حامل قوم!!! ابوبکر سا صدق، عمر سا عدل، عثمان سی سخا اور علی سی شجاعت کے جوہر دکھلادے۔
خوابِ خرگوش کو مار گولی اے قوم!!! اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنا سیکھ لے دنیا قدم قدم پر تیری قدم بوسی کے لئے پہل کرے گی، جس طرف تو رخ کرے گی فیروزمندی و سرفرازی تیرا استقبال کرے گی۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
بابری کی فکر تجھے اب ہوئی، اس دن تیری اسلامی غیرت و ایمانی حمیت کہاں تھی اے قوم! جب اس کی شہادت کا روح فرسا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا، اور اب جب اپنی حرماں نصیبی کا احساس بھی ہوا تو تو کر بھی کیا سکتی ہے؟
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
رنجیدہ خاطر بھلے ہوں پر مایوسی کو اپنے قریب بھٹکنے نہ دینا کیونکہ گزرا وقت ہاتھ نہیں آتا مگر اگلے وقت کی قدرشناسی کرکے اس سے گذشتہ غلطیاں تو سدھار سکتے ہیں اور گذشتہ خطاؤں کا ازالہ تو کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ہماری اس تاریخی اور اجتماعی غلطی کے نتیجے میں بہت بڑے دکھ و افسوس اور رنج و الم نے ہمارے دلوں پر دستک دی ہے مگر بقول مولانا ابوالکلام آزاد رح: غم و اندوہ صرف اسلئے ہے تاکہ مصیبت کے حس سے سعی و استعداد کی قوت پیدا ہو، ورنہ آنسو بہا کر تو کسی سپاہی نے میدانِ جنگ فتح نہیں کیا۔(جرس کارواں، ص- ۴۰)
تو آئیے تم، ہم، سب مل کر بہ یک زبان، بہ یک لسان زمانے کو بتادیں کہ:-
ہم پر چلیں گےاحکام نہ آتش نہ آب کے
سن لے ہوا کہ پیرو ہیں ہم آقائے بوتراب کے
درِ خیبر تھا ہمارے سامنے ہلکا سا اِک وزن
بازو یہ منتظر ہیں بڑے انقلاب کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں